پاکستان میں غیرقانونی اسلحے کا ’راج‘
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 17 اگست 2013 , 22:12 GMT 03:12 PST
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو کروڑ سے زائد غیر قانونی ہتھیار موجود ہیں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکندر نامی شخص کی جانب سے دن دھاڑے دو بندوقیں پانچ گھنٹوں تک لہرانا ملک میں غیرقانونی اسلحے کی جانب ایک مرتبہ پھر توجہ دلانے کے لیے کافی تھا۔
تھوڑے تھوڑے وقفے سے یہ شخص اس ہتھیار سے لائیو کیمروں کے سامنے گولیاں چلا کر اپنی دہشت قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ کیا ان کلاشنکوفوں کے بغیر وہ ایسا کر سکتا تھا؟
اسلام آباد کی پولیس ان کلاشنکوفوں کا اتا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اب تک کی تحقیق اور نادرا کے ریکارڈ میں ان مہلک ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
غالب قیاس یہی ہے کہ یہ دو آٹومیٹک ہتھیار بھی ملک میں پائے جانے والے ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان دو کروڑ سے زائد غیر قانونی ہتھیاروں میں سے ہیں جن کی ترسیل اور دستیابی ختم کرنے کی تمام کوششیں آج تک بےسود ثابت ہوئی ہیں۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں چاروں صوبوں کی پولیس تقریباً پچیس ہزار غیر قانونی ہتھیار قبضے میں لینے میں کامیاب ہو سکی۔
سرکاری اعداوشمار کے مطابق سب سے زیادہ تعداد میں غیر قانونی اسلحہ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ضبط کیا گیا۔ جنوری سے جون دو ہزار بارہ کے درمیان ساڑھے تیئس ہزار افراد غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے جن سے اٹھارہ ہزار سے زائد ہتھیار برآمد کیے گئے جن میں پانچ سو کلاشنکوفیں، سترہ ہزار سے زائد پستول اور پانچ ہزار سے زائد بندوقیں شامل ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس فہرست میں دوسرے نمبر پر حیران کن طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آتا ہے۔ یہاں اس عرصے کے دوران بیس بلا لائسنس کلاشنکوفیں اور تقریباً پانچ سو پستول پکڑے گئے۔ اس کی وجہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں اسلام آباد میں جرائم کا درست ریکارڈ رکھا جانا بتایا جاتا ہے۔
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 17 اگست 2013 , 22:12 GMT 03:12 PST
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو کروڑ سے زائد غیر قانونی ہتھیار موجود ہیں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکندر نامی شخص کی جانب سے دن دھاڑے دو بندوقیں پانچ گھنٹوں تک لہرانا ملک میں غیرقانونی اسلحے کی جانب ایک مرتبہ پھر توجہ دلانے کے لیے کافی تھا۔
تھوڑے تھوڑے وقفے سے یہ شخص اس ہتھیار سے لائیو کیمروں کے سامنے گولیاں چلا کر اپنی دہشت قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ کیا ان کلاشنکوفوں کے بغیر وہ ایسا کر سکتا تھا؟
اسلام آباد کی پولیس ان کلاشنکوفوں کا اتا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اب تک کی تحقیق اور نادرا کے ریکارڈ میں ان مہلک ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
غالب قیاس یہی ہے کہ یہ دو آٹومیٹک ہتھیار بھی ملک میں پائے جانے والے ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان دو کروڑ سے زائد غیر قانونی ہتھیاروں میں سے ہیں جن کی ترسیل اور دستیابی ختم کرنے کی تمام کوششیں آج تک بےسود ثابت ہوئی ہیں۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں چاروں صوبوں کی پولیس تقریباً پچیس ہزار غیر قانونی ہتھیار قبضے میں لینے میں کامیاب ہو سکی۔
سرکاری اعداوشمار کے مطابق سب سے زیادہ تعداد میں غیر قانونی اسلحہ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ضبط کیا گیا۔ جنوری سے جون دو ہزار بارہ کے درمیان ساڑھے تیئس ہزار افراد غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے جن سے اٹھارہ ہزار سے زائد ہتھیار برآمد کیے گئے جن میں پانچ سو کلاشنکوفیں، سترہ ہزار سے زائد پستول اور پانچ ہزار سے زائد بندوقیں شامل ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس فہرست میں دوسرے نمبر پر حیران کن طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آتا ہے۔ یہاں اس عرصے کے دوران بیس بلا لائسنس کلاشنکوفیں اور تقریباً پانچ سو پستول پکڑے گئے۔ اس کی وجہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں اسلام آباد میں جرائم کا درست ریکارڈ رکھا جانا بتایا جاتا ہے۔
اسلحے کے لائسنس
پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے سرکاری اعداوشمار کے مطابق سال دو ہزار نو سے مارچ دو ہزار تیرہ تک تقریبا ڈیڑھ لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے جن میں سب سے زیادہ دو ہزار نو میں تقریبا ساٹھ ہزار لائسنس دیے گئے۔
شدت پسندی سے متاثرہ خیبر پختونخوا میں اس سال کے ابتدائی سات ماہ میں محض اکیس غیرقانونی کلاشنکوفیں، تقریبا اڑھائی سو پستول اور پندرہ بندوقیں ضبط ہو سکیں۔ افغانستان سرحد پر واقع خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے غیرقانونی اسلحہ ایسے لایا جاتا ہے جیسے بغیر کسی ٹیکس و ڈیوٹی کے فروٹ۔
لیکن قومی اسمبلی میں جمعے کو اس بابت جو معلومات فراہم کی گئی ان میں سب سے زیادہ حیران کن بات صوبہ سندھ کی پولیس کا کسی علاقے سے غیرقانونی اسلحہ نہ پکڑے جانے کی اطلاع تھی یعنی اس صوبے میں یا تو سارا اسلحہ قانونی ہے یا پھر پولیس کی آنکھوں سے مسلسل اوجھل ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ضبطگیاں آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ملک میں جس تعداد میں اسلحہ پھیلا ہوا ہے اس کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں۔
دوسری جانب حکومتوں کی جانب سے ریوڑیوں کی طرح اسلحے کے لائسنس جاری کیے جانے سے بھی اسلحے کی فراوانی کا مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے سرکاری اعداوشمار کے مطابق سال دو ہزار نو سے مارچ دو ہزار تیرہ تک تقریبا ڈیڑھ لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے جن میں سب سے زیادہ دو ہزار نو میں تقریبا ساٹھ ہزار لائسنس تھے۔
اب جبکہ نواز شریف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک جامع پالیسی کی تیاری میں مصروف ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ غیر قانونی اسلحہ کی باآسانی دستیابی پر بھی اس پالیسی میں تفصیلی توجہ دی جائے گی اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے سرکاری اعداوشمار کے مطابق سال دو ہزار نو سے مارچ دو ہزار تیرہ تک تقریبا ڈیڑھ لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے جن میں سب سے زیادہ دو ہزار نو میں تقریبا ساٹھ ہزار لائسنس دیے گئے۔
شدت پسندی سے متاثرہ خیبر پختونخوا میں اس سال کے ابتدائی سات ماہ میں محض اکیس غیرقانونی کلاشنکوفیں، تقریبا اڑھائی سو پستول اور پندرہ بندوقیں ضبط ہو سکیں۔ افغانستان سرحد پر واقع خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے غیرقانونی اسلحہ ایسے لایا جاتا ہے جیسے بغیر کسی ٹیکس و ڈیوٹی کے فروٹ۔
لیکن قومی اسمبلی میں جمعے کو اس بابت جو معلومات فراہم کی گئی ان میں سب سے زیادہ حیران کن بات صوبہ سندھ کی پولیس کا کسی علاقے سے غیرقانونی اسلحہ نہ پکڑے جانے کی اطلاع تھی یعنی اس صوبے میں یا تو سارا اسلحہ قانونی ہے یا پھر پولیس کی آنکھوں سے مسلسل اوجھل ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ضبطگیاں آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ملک میں جس تعداد میں اسلحہ پھیلا ہوا ہے اس کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں۔
دوسری جانب حکومتوں کی جانب سے ریوڑیوں کی طرح اسلحے کے لائسنس جاری کیے جانے سے بھی اسلحے کی فراوانی کا مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے سرکاری اعداوشمار کے مطابق سال دو ہزار نو سے مارچ دو ہزار تیرہ تک تقریبا ڈیڑھ لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے جن میں سب سے زیادہ دو ہزار نو میں تقریبا ساٹھ ہزار لائسنس تھے۔
اب جبکہ نواز شریف حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایک جامع پالیسی کی تیاری میں مصروف ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ غیر قانونی اسلحہ کی باآسانی دستیابی پر بھی اس پالیسی میں تفصیلی توجہ دی جائے گی اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
BBC © 201
3
BBC © 201
3
3

No comments:
Post a Comment
Make sure you have your say too.